کیا آپ کا وضو بھی جلدی ٹوٹ جاتا ہے


A humorous column by Shahzad Basra on Wadhu issue. Everyone wishes to keep wadu longer but cannot.
مشکلات برائے دوام ِوضو
شہزاد بسراء
حرمین شریفین کی ماشا ء اللہ دونوں مساجد اسقدر وسیع و عریض ہیں کہ اندر صحن میں بیٹھے آدمی کوجب دوراتِ میاہ (عربی میں بیت الخلا کو کہتے ہیں، جہاں وضو کے لیے بھی جگہ ہوتی ہے) جانے کی ضرورت پڑتی ہے تو کم از کم 1کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتاہے اور اِسقدر رش کہ جانے آنے میں گھنٹہ تو خرچ ہو ہی جاتا ہے۔ اگرچہ حکم ہے کہ اگر دوراتِ میاہ کی حاجت ہو تو پہلے فارغ ہو کر پھر وضو کرکے نماز پڑھو۔ ایسی حالت میں نماز نہیں ہوتی۔ مگر ہر نماز کے بعد فوراً حاجی لوگ دورات میاہ پر پل پڑتے ہیں جو اِس بات کا مظہر ہے کہ بمشکل جبر کرکے نماز پوری کی گئی۔ اگر دورات ِمیاہ کی ضرورت نہ بھی پیش آئے پھر بھی آدھے سے زیادہ حاجی نماز کے بعد ماءِ زم زم ( آب فارسی کا لفظ ہے چناچہ عرب دنیا میں آبِ زم زم سے کوئی واقف نہیں) کی ٹوٹیوں سے وضو کرتے پائے جاتے ہیں(حرمین کی وسیع و عریض مساجد میں وضو کی کوئی جگہ نہیں اور آپ کو طویل فاصلہ طے کر کے باہر دوراتِ میاہ جانا پڑتا ہے یا پھر جگہ جگہ ماءِ زم زم جو پینے کے لیے کولروں سے حاجی وضو کرتے ہیں ) ۔ یہ وضو کا کمزور ہونے کا مسئلہ بھی گلوبل پرابلم ہے، کسی کو زیادہ اور کسی کو کم۔ کسی کے بہت جلد اور کچھ کو ذرا وقفے سے۔ کچھ کو زیادہ کھانے سے اور کچھ کو خالی پیٹ ۔ بہر حال یہ مسئلہ دورات میاہ جا کر بھی حل نہیں ہوتا اور انسان کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ ماءِ زم زم پر وضو کرنے والوں کا رش اس بات کا غماز ہوتا ہے کہ یہ حاجی دورات ِمیاہ کی ضرورت کے بغیر ہی وضو کمزور کر بیٹھے ۔

جمعہ کی نماز کیلئے حاجیوں کے علاوہ مقامی آبادی بھی کثیر تعداد میں حرمین رجوع کرتی ہے۔ صبح10بجے کے بعد ہی حرمین میں جگہ ملنا تقریبا ً ناممکن ہوجاتی ہے۔ سڑکو ں گلیوں میں جمعے کی نماز ہوتی ہے۔لوگ صبح صبح ہی آکر حرمین میں جگہ پاکر بیٹھ تو جاتے ہیں مگر 3گھنٹے تک وضو قائم رکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ زیادہ تر لوگ تو ایک آدھ دفعہ قریبی ماءِ زم زم سے تازہ وضو بنا لیتے ہیں ۔ مگر جن کو دورات ِ میا ہ کی ضرورت پیش آجائے وہ اپنی جگہ کھو بیٹھتے ہیں اور آنے جانے میں بعض دفعہ جمعے کی نماز تک بمشکل جہاں جگہ ملے نماز پڑھ پاتے ہیں ۔ بہت سے لوگ برداشت کر کے بیٹھتے رہتے ہیں مگر آخر جمعہ کی نماز یا خطبہ تک ان کی برداشت ختم ہو جاتی ہے اور اُن کاصبح سے جگہ قابو کرکے بیٹھنا بے کار جاتا ہے۔اب اللہ قبول فرمائے مگر نماز ختم ہوتے ہی ایک گھنٹہ تک دورات ِمیاہ میں باری نہیں آتی ۔

باتھ روم معذرت خواہ ہوں دوراتِ میاہ جانے کی بابت تو مرد و زن ، بڑے چھوٹے سب قدرے بلا ضرورت تفصیل بتاتے ہیں کہ آج پتانہیں کیا مسئلہ ہے بار بار پیشاب آرہا ہے یاپھر رات کچھ کھانا ٹھیک نہیں تھاپیٹ قدرے Looseہے۔ مگر تیسری وجہ جس سے وضو جاتا رہتا ہے ہر کوئی بتانے سے کتراتا ہے بلکہ اس وقت تھوڑی شرمندگی محسوس ہوتی ہے جب ایک نماز پڑھنے کے بعد آپ بس میں بیٹھ جائیں یا مسجد میں ہی ہوں کہ دوسری نماز کا ٹائم ہو جائے تو لوگ اچانک بول اُٹھتے ہیں کہ میرا تو وضو قائم ہے چلو نمازپڑھ لیتے ہیں ۔ جن کا ابھی تک نہیں قائم وہ اس لمحے قدرے خجالت محسوس کرتے ہیں ۔ تھوڑا جھوٹ کا سہار ا لیتے ہوئے کہتے ہیں
’’میرا خیال ہے کہ تازہ وضو ہی بنالیں ، زیادہ ثواب ہے‘‘
یا کہتے ہیں
’’ٹھیک سے یاد نہیں کہ وضو ابھی تک قائم ہے کہ نہیں‘‘۔
بعض اوقات اکٹھے گھر سے وضو بنا کر آتے ہیں اور حرم پہنچتے ہی ایک کہتا ہی
’’ بھئی جلدی کرو ۔ اندر جگہ شاید مل جائے وہیں نماز یا طواف کے لئے پہنچتے ہیں ‘‘
تو دوسرے صاحب فرماتے ہیں کہ ’’ٹھہرو میں ذرا وضو کر آؤں‘‘
’’ہاہیں ابھی تو گھر سے وضو کرکے آئے تھے بھئی، کیا ہو گیا؟
اب بندہ کیا جواب دے ۔
خوراک کا اس معاملے میں خاصا اہم رول ہے ۔ دال ماش، دا ل چنا، گوبھی ، پالک، اُبلے چاول وغیرہ اگر کمزور معدے والے حضرات کھا مَر بیٹھیں تو ایک وضو سے بمشکل ایک نماز پوری کرنا مشکل ہو جاتی ہے۔
ایک دفعہ ایک ڈاکٹر کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک خاتون نے اشارے سے ڈاکٹر صاحب کو یوں بیماری بتائی۔
’’ ڈاکٹر صاحب مجھے تو سردیوں میں بھی دروازے کھڑکیاں کھول کر سونا پڑتا ہے‘‘
ڈاکٹر صاحب کچھ اور سمجھے کہ
’’ اچھا تو کیا آپ کے ہاتھ پیر ٹھنڈ میں بھی جلتے ہیں اور گرمی لگتی ہے؟‘‘
خاتون زچ ہو کر بولی ’’ نہیں ڈاکٹر صاحب سردی تو لگتی ہے مگر وضو پانچ منٹ بھی قائم نہیں رہتا‘‘۔
کچھ افراد کی صحت قابل رشک ہوتی ہے۔ جیسے افریقی خواتین ٹولے بنا کے جگہ جگہ ٹانگیں پھیلائے گھنٹوں بیٹھی رہتی ہیں۔کھایا پیا، نماز کا وقت ہوا تو وہیں نماز پڑھی یا پھر سو گئے۔یا تو اُن کا وضو کمزور نہیں ہوتا یا پھر اُن کے ہاں وضو کا رواج ہی نہیں ۔اس ضمن میں ہمیں وہ لطیفہ یاد آرہا ہے کہ 2 آدمی مسجد کی طرف بھاگ رہے تھے کہ نماز جا رہی تھی۔ آخر وہ بھاگتے بھاگتے نماز کو جا لئے ۔
نماز کے بعد ایک بولا ۔
’’شُکر ہے ہمیں جماعت مل گئی ‘‘
دوسرا بولا ۔’’ ہاں اگر وضو کے چکر میں پڑتے تو پھر مشکل تھی‘‘
تو جناب جہاں ہم نے دورانِ حج اور بہت سی دعائیں کی وہاں یہ دعا تو دل سے نکلی کہ اے خدا ئے بزرگ و برتر میرا وضو دیر تک قائم رکھیو، مجھے دوام ِوضو عطا فرما۔ اس ضمن میں جملہ پیچیدگیوں کودور فرما ۔اے رب العالمین میں ظہر کا وضو کرکے جاؤں تو مغرب کی نماز بھی اسی وضو سے با آسانی پڑھ سکوں ۔میں عصر کا وضو کرکے جاؤں توعِشاء کی نماز بھی اسی وضو سے پڑھ کے مسکراتا واپس آؤں۔ آمین ثما آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *