Confusion at door sticker Pull Push

شہزاد بسراء
کون کہتا ہے کہ ہمارے ہاں مسکرانے کے مواقع کم ہیں۔مجھے تو خوش ہونے کیلئے نہ کہیں جانا پڑتا ہے اور نہ کچھ کر نا پڑتا ہے۔ ہر تھوڑی دیر بعد اللہ تعالی بیٹھے بٹھائے خوش ہونے کا موقع مہیا کر دیتے ہیں۔ یہ مواقعے تو اب روز مرہ کا حصہ بن گئے ہیں ۔ شروع شروع میں جس بات پر چِڑجاتا تھا اورلوگوں سے ناراض ہوتا تھا، رفتہ رفتہ وہی بات میرے لیے تفریح کا باعث بن گئی۔
پچھلے سال میں نے یونیورسٹی میں اپنی لیباریٹری کی ازسر نو مرمت کی تو اُس میں ایک آفس کیبن بھی بنوایا ۔ آفس کیبن کے شیشے کے دروازے سے جہاں یہ فائدہ ہوا کہ ساری لیباریٹری پر نظررہتی وہیں یہ بھی پتا چل جاتا کہ کون آپ سے ملنے آرہا ہے کیونکہ میرے آفس داخل ہونے کیلئے لیباریٹری سے گزرنا پڑتاہے۔مگر ایک بڑی عجیب مصیبت ہو گئی کہ دروازہ باہر کو کُھلتا تھا لیکن ہر کوئی سیدھا آتا اور اُسی جھونک میںدروازے کو اندر دھکیلتا لیکن جھٹکا لگنے پر سنبھلتا ، پھر اپنی طرف کھنچ کے دروازہ کھولتا۔ سارا دِن دروازے کے ساتھ یہ دھینگا مشتی جاری رہتی۔بار بار اِس شور شرابے کی وجہ سے کام میں انہماق ٹوٹ جاتا۔چند دِن تو میں برداشت کرتا رہا کہ اِس تبدیلی سے لوگ جلد ہی ہم آہنگ ہو جائیں گے مگر جب صورت ِحال میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو میں چِڑنا شروع ہو گیاکہ یہ پڑھے لکھے جاہل لوگ دروازہ توڑ دیں گے اور مجھے سکون سے کام نہیں کرنے دیں گے۔ کئی دِن کُڑھنے کے بعد بلآخرPUSH اور PULL کے بڑے بڑے اسٹیکر دروازے کے دونوں اطراف چسپاں کرنے پڑے ۔ اسٹیکر لگا کے میں مطمئن ہوگیا کہ دروازہ اب آرام سے کھلا اور بندہوا کرے گا ،مگر یہ کیا، اب بھی ہر کوئی دروازے کو PULLکی بجائے دھڑ سے PUSH کرنے کی ناکام کوشش کرتا اور خود بھی ٹکرا جاتا پھر سنبھل کے PULL کرکے دروازہ کھولتا ۔ میری چِڑچڑاہٹ بہت بڑھ گئی ۔ اکثرطلبا کو ڈانٹ دیتا کہ اتنا بڑاسٹیکر لگا یا ہے پھر بھی دروازہ توڑنے لگے تھے ۔ کئی دفعہ تو غُصے سے میں نے دروازے کو سارا سارا دِن کھولے بھی رکھا ۔لیکن یہ بھی کوئی اِس مسئلے کا حل نہ تھا۔دِن میں کئی مرتبہ لوگوں سے اُلجھتا مگر ڈھاک کے تین پات۔
ایک دن ایک سینئر پروفیسر صاحب آئے تو میں اتفاقاََ دروازے کی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔پروفیسرصاحب نے نئی لیب کا ستائشی نظروں سے جائزہ لیا، دروازے کی طرف بڑھے تو اسٹیکر کو بغور دیکھا ۔ میں خوش ہوا کہ سیانے آدمی ہیں اچھی طرح پڑھ کے پھر دیکھیں گے کہ نیا دروازہ اندر کھلے گا یا باہر ۔ تو جناب پروفیسر صاحب نے PULLاسٹیکر پڑھ کے بڑے آرام سے دروازہ PUSH کر دیا ۔ فوراً غلطی کا احساس ہوا تو شرمندہ ہوگئے اور اسٹیکر کو یوں دیکھنے لگے گویا پہلے نہ دیکھا تھا ۔ اور دروازہ PULLکرکے اندر آگئے ۔ تاثرات سے یہ اظہار کررہے تھے کہ جیسے PULL کا اسٹیکر نہ دیکھ سکے ۔ میں مسکرا دیا ۔ پروفیسر صاحب جھینپ گئے کہ میں نے ان کی غلطی پکڑلی تھی ۔ پروفیسر صاحب کام سے فارغ ہوکے باہر جانے لگے تو مجھے لگا کہ PULL – PUSH سے کنفیوژ ہیں ۔ میری پوری توجہ اُن کی جانب تھی کہ دروازہ کیسے کھولتے ہیں۔ باہر جانے کے لیے دروازہ PUSHکر نا تھا ۔ مگر گڑ بڑا کے PULL کر بیٹھے اور پھر شرمندہ ہوئے اور حیر ت سے PUSH کے اسٹیکر کو دیکھ کر دروازہ دھکیل کے باہر چلے گئے ۔ میں کا فی دیر اکیلا ہنستا رہا ۔
وہ دن اور آج کا دن میری چِڑ چڑاہٹ مسکراہٹ میں بدل گئی ہے ۔ ہر تھوڑی دیر بعد میرے کمرے میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ملاقاتیوں میں زیادہ تر PHD, M. Phill, MSc. کے طلباء، پروفیسر حضرات یا پھر ڈیپاٹمنٹ کا عملہ۔کم پڑھا لکھا عملہ روز کی روٹین کی وجہ سے PULL PUSH کو جان چکا ہے اور بہت کم غلطی کرتے ہیں مگر با قی اعلی تعلیم یافتہ خواتین و حضرات میری ناقص رائے میں PULL – PUSH پر نہائیت کنفیوژ ہوتے ہیں ۔ اب جونہی دروازے میں کچھ کھٹکا ہوتا ہے۔ تو اللہ تعالی مجھے دو دفعہ خوشی عطا کرتا ہے۔ پہلی مرتبہ ملاقاتی جب دروازے کو دھکیلنے کی ناکام کوشش کے بعد شرمندگی سے یہ تاثرات بنائے ہوئے اندر آتا ہے کہ مجھے جیسے PULL – PUSH کا تو بخوبی پتا ہے مگر دروازے پر اسٹیکر نہ دیکھ سکا ۔ دوسری مرتبہ جب وہ جانے لگتا ہے تو اس کی کنفیوژن اور شدید ہوتی ہے کیونکہ وہ رکے بغیر دروازے کو دھکیلتا ہے کہ پہلے تو دیکھا نہ تھا اب PULL – PUSH سے اچھی طرع آگاہ ہے مگر وہ پھر غلطی کر بیٹھتا۔ اب کے وہ تصور میںدیکھتا کہ میں اُس کی کنفیوژن پہ مسکرا رہا ہوں ۔
اب کسی ڈیپارٹمنٹل سٹور یا کسی آفس جاؤں تو وہاں بھی یہ نظارہ دیکھنے کو عام ہے۔ غالباًاسی لئے پبلک عمارات میںاب PULL – PUSHکی بجائے
ََبرائے مہربانی دروازہ اندر کھولئے
اور
برائے مہربانی دروازہ باہر کھولئے
والے اسٹیکرز لگے نظر آتے ہیں ۔ مگر میرا تجربہ ہے کہ لوگ ادھر بھی کنفیوژ ہی رہتے ہیں ۔ کہ ’’برائے مہربانی دروازہ اندر کھولئے‘‘ میں ’’اندر‘‘ سے کیا مراد ہے۔ دوکان کے اندر یا اپنی طرف۔ اور’’برائے مہربانی دروازہ باہر کھولئے‘‘ میں ’’باہر‘‘ سے مراد دوکان سے باہر کی طرف یا آپ کے دوسری طرف ہے۔ بڑے اسٹوروں نے تو اِس کا خوب حل نکالا ہے اور خودکار دروازے لگا دیئے ہیں۔ یار لوگ اِدھر بھی اِسی شش وپنج میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ایک تو شاندار عمارت سے مرعوب ،اوپر سے خُفیہ کیمروں کا ڈر اور اندر سے اعتماد میں کمی کہ دروازہPULLکرنا ہے یا PUSH کہ دروازہ خود ہی کھل جاتا ہے اور اپنی اِس عزت افزائی پر یار لوگ اوپر سے مسکراتے ہوئے مگر اندر ہی اندر سے گھبرا کے جلدی جلدی اندر داخل ہوتے ہیں کہ کہیں دروازہ بند ہی نہ ہو جائے اور پھر خود کھولنا پڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *